سی پیک کے ثمرات ویژن 2025کے تناظر میں

تحریر: محمد عثمان

235

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ 70سالوں میں اتنی بھاری مقدار کی سرمایہ کاری نہیں ہوئی ہے جتنی سی پیک کی صورت میں آرہی ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کاانحصار بہت سے عناصر پر ہوتا ہے جس میں سرمایہ کاری ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔
سیاسی اختلافات کو پسے پشت ڈال کر اگر دیکھا جائے تو سی پیک ایک ایسا موقع ہے جس کے ثمرات سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکتاہے اور پاکستان کو 21ویں صدی کا ایشین ٹائیگر بنایا جا سکتاہے۔ 46بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔
ویژن 2025سات پلرز پر کھڑا ہے جو تمام کے تمام بلواسطہ یا بلاواسطہ اس منصوبے کے منسلک ہیں ۔ ان پلرز کے 25مختلف ہداف ہیں جن کی تکمیل میں سی پیک کا ایک منفرد کردارہے ۔
پلر نمبر1۔ لوگوں کو ترجیح دینا: مختلف رپورٹس کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو بہت سے انڈیکٹرز اس بات پر مہر صدق ثبت کریں گے کہ پچھلے کچھ سالوں کی نسبت پاکستان ان انڈیکٹرز میں خاطر خواہ بہتر ی لانے میں کامیاب رہا ہے ۔ پاکستان اپنی جی ڈی پی کا 2.2فیصد تعلیم پر خرچ کررہا ہے اور 2018تک 4فیصد تک پہنچانا ویژن 2025کے مقاصد میں شامل ہے۔ صحت کے محکمے میں پاکستان اپنے جی ڈی پی کا 0.5فیصد سے 0.8فیصد تک گزشتہ 10سالوں سے خرچ کررہا ہے جوکہ صحت کی بنیادی سہولتوں کوہر عام انسان کی پہنچ کے قابل نبارہاہے ۔ ورلڈ بنک کے اعدادو شمار کے مطابق 2016میں عورتوں کی لیبر فورس میں شمولیت 24.57فیصد رہی ہے ۔ جوکہ 2014میں 24.31فیصد تھی۔ ویژن2025کے مطابق اس شرح کو 24فیصد سے 45فیصد تک لے کر جانا ہے ۔عورتوں کا لیبر فورس میں شامل ہونا ترقی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو پاکستان کو کامیاب معیشت بنانے میں ایک اہم کردار ادار کرے گا۔
پلر نمبر2۔ شرح نمو کو مسلسل اور برقرار کھنا: کلی معاشیات میں کسی بھی معشیت کی طاقت کو اس کی شرح نمو سے جانا جاتا ہے 2013میں سی پیک کے منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کی معشیت نے ایک مثبت رخ اختیار کیا ہے ۔پاکستان نے گزشتہ 10سالوں میں اپنی شرح نمو کو سب سے زیادہ 2016-17میں 5.3فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ جوکہ ویژن 2025کے تناظر میں 8فیصد تک لے جانا ہے۔ غربت کی سطح کو پاکستان کافی حد تک کم کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2018میں 11فیصد رکھا گیا ہے جو کہ مالی سال 2017میں 10.9فیصد تھا۔
پلر نمبر3۔مضبوط جمہوریت اور اداروں کی اصلاحات: ادارے کسی بھی ملک کا حسن ہوتے ہیں ۔ سی پیک کے منصوبے کے آتے ہی ملک میں شفافیت کا آغازہوا ہے ۔ اداروں کی کارگردگی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے ۔ ون ونڈو آپریشن کے شروع ہونے سے ملک میں کرپشن کے ناسور کو کافی حد تک قابو میں لایا گیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے آنے سے بہت سے سسٹم آن لائنہوئے ہیں جس سے نہ صرف عوام کے لیے آسانی ہوئی ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔
پلر نمبر4۔ توانائی ، پانی اور خوراک: صنعت کو چلانے کے لیے توانائی ایک اہم عنصرہے ۔ توانائی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان 2فیصد جی ڈی پی میں کمی کا سامنا کر رہاہے ۔ سی پیک کی بدولت پاکستان جولائی 2018تک 27000میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گااور توانائی کی طلب اس وقت 25000میگا واٹ تک ہو گی جوکہ پاکستانی صنعت کو پروان چڑھانے میں ایک موثر قدم ہو گا۔ کوئلہ ، پانی، سولر اور ہوا سے پید اہونے والی توانائی سے مجموعی طور پر سستی بجلی کی فراہمی ہو گی۔ خوراک اور پانی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے مختلف قسم کے ایگریکلچر ل ریفامز کی جارہی ہیں اور نئے ڈیم بنائے جا رہے ہیں۔
پلر نمبر5۔پرائیو یٹ سیکٹر اور کاروباری گروتھ : ادائیگوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو ترغیب دینا ایک بہت ضروری عمل ہے ۔ کاروبار کے لیے ساز گار مواقع فراہم کرنا اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے موثر اقدام کرنا ویژں 2025کے مقاصد میں شامل ہے۔ سی پیک کے ذریعے ہر صوبے میں سپیشل اکنامک زون کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جوکہ پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔
پلر نمبر6۔ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال اور معاشی قدر میں اضافہ :ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے لیے بے حد ضروری عمل ہے سی پیک کے منصوبے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چائنہ سے جدید ٹیکنالوجی کو ٹرانسفر کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان اپنی بہت سی برآمدات کو بغیر کسی قدر کے اضافہ کیے فروخت کر دیتا ہے جس سے بیرونی مالی ذخائر پر بہت برا اثر رہتا ہے۔ سی پیک کی بدولت ویژن 2025کے ان مقاصد کو حاصل کرنے میں بہت مدد ملے گی۔
پلر نمبر7۔ جدید ذرائع نقل و حمل اور روابط کے سلسلے: بنیادی ڈھانچہ کے مختلف منصوبے سی پیک کی مد میں آرہے ہیں جس میں کاشغر سے لے کر گوادر تک مختلف ہائی ویز اور موٹر ویز شامل ہیں ۔ ML-1ریل کے پراجیکٹ سے جدید نقل و حمل کا نظام پاکستان میں رائج ہو گاجو وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ ایشاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لاگت کو بھی کم کرے گا۔ ویژن 2025کے مقاصد میں پاکستانی برآمدات کو 25بلین ڈالر سے بڑھا کر 150بلین ڈالر تک پہنچانا ہے ۔
اگر تمام عناصر کو مد نظر رکھ کر تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ پاکستانی معشیت نیو ایشین ٹائیگر بننے کے طرف گامزن ہے جس کو پاک چین اقتصادی رہداری جیسے عظیم منصوبے کا ساتھ میسر ہے۔

SHARE